سری نگر، 28؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )کشمیر میں ہفتہ کے اختتام پر دو دن حالات معمول رہنے کے بعد آج پھر علیحدگی پسندوں کی طرف سے طلب کردہ بند کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہے ۔علیحدگی پسند گروپوں کے بند میں دو دن کی چھوٹ دینے کے بعد آج پھر زیادہ تر دکانیں، پٹرول پمپ اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے۔حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے موسم گرما کے دارالحکومت سری نگر کے علاوہ وادی میں آج ہر جگہ گزشتہ دو دنوں کے مقابلے میں ٹریفک کم رہا۔انہوں نے کہا کہ شہر کے کچھ علاقوں میں آج پبلک ٹرانسپورٹ چل رہے ہیں، وہیں سڑکوں پر نجی کاروں کے زیادہ تعداد میں چلنے سے کئی مقامات پر جام بھی لگا۔حکام نے بتایا کہ سول لائن کے کچھ علاقوں اور شہر کی بیرونی سرحد میں بھی کچھ دکانیں کھلیں، وہیں لال چوک مرکز میں ٹی آرسی چوک-بٹمالو کے پاس کئی ریہڑی پٹری والوں نے اپنی دکانیں بھی لگائی۔انہوں نے بتایا کہ وادی کے دیگر اضلاع کو شہر سے جوڑنے والی بین ضلع کیب بھی سڑکوں پر نظر آئیں ۔حکام نے کہا کہ وادی کے دیگر ضلع ہیڈ کوارٹرں سے نسبتا کم ٹریفک کی رپورٹ ملی ہے، جہاں بند کی وجہ سے بڑے پیمانے پرمعمولات زندگی کے دیگر پہلو بھی متاثر رہے۔انہوں نے بتایا کہ آج دو دن بعد اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے پھر بند رہے۔بند کی قیادت کر رہے علیحدگی پسند گروپ ایک ہفتہ کا مخالفت پروگرام جاری کرتے ہیں، انہوں نے ہفتہ کے اختتام پر پورے دو دن بند میں نرمی دی تھی،تاہم آج کوئی ڈھیل نہیں دی گئی ہے۔وادی میں جاری بدامنی میں ابھی تک دو پولیس اہلکاروں سمیت 86افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ان جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز کے بھی قریب 5000اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔